نئی دہلی، 8؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے معاملے پر وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے آج لوک سبھا میں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے پر ریاست کے وزیراعلیٰ این چندر بابو نائیڈو کے ساتھ بات چیت کافی پیشگی مرحلے میں ہے اور حکومت جلد ہی کسی حل پر پہنچے گی۔اس مسئلے کو لے کر گزشتہ ہفتے بھر سے زیادہ وقت سے لوک سبھا میں نعرے بازی کر رہے وائی ایس آر کانگریس کے اراکین سے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ وہ پہلے بھی کئی بار ایوان میں اس سلسلے میں یقین دہانی کرا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے آندھرا پردیش کے مسئلے کا نوٹس لیا ہے اور وہ اس بات سے متفق ہے کہ تقسیم کے وقت ریونیو اورمالی امور میں آندھرا پردیش کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے جس کی تلافی کی جانی چاہیے ۔جیٹلی نے کہا کہ اس مسئلے پر ریاست کے وزیر اعلی این چندر بابو نائیڈو کے ساتھ بات چیت کافی پیشگی مرحلے میں ہے اور حکومت جلد ہی کسی حل پر پہنچے گی۔اس سے قبل کانگریس کے لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس کے رکن اتنے دنوں سے اس مسئلے کو اٹھا رہے ہیں لیکن حکومت سننے کو تیار نہیں ہے، انہوں نے اس مسئلے کا جلد حل ڈھونڈنے کی اپیل کی۔ایس پی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے بھی اسپیکر سے سخت ناراضگی کااظہار کیا اور کہا کہ وائی ایس آر کانگریس کے رکن اتنے دنوں سے نعرے بازی کر رہے ہیں اور حکومت کوئی حل نکالنے کے لیے تیار نہیں دکھائی دیتی، انہوں نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ انہیں اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کو صدر نے اس معاملے پر بات چیت کرنے کے لیے نہیں بلایا۔وائی ایس آر کانگریس کے ایم راجو موہن ریڈی نے اس معاملے پر کہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس وقت کی اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے اس کی حمایت کی تھی۔بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی اس کا وعدہ کیا تھا۔اس وعدے پر یقین کرکے عوام نے بی جے پی کو مرکز میں اور تیلگو دیشم پارٹی کو ریاست میں اقتدار سونپا لیکن اب مرکزی حکومت اپنے وعدے سے مکر رہی ہے۔